معروف ذاکر ضمیراختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے


نامور خطیب علامہ ضمیر اختر نقوی چل بسے، خاندانی ذرایع نے بتایا کہ علامہ کو رات گئے دل کا دورہ پڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کرگئے۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، قریبی رفقا کے مطابق مرحوم کی میت انچولی امام بارگاہ منتقل کردی گئی ہے۔

ذاکر اہل بیت ع ضمیر اختر نقوی 24 مارچ 1944 کو بھارتی شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے، ان کی عمر 76 برس تھی، وہ خطیب کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے، مرحوم نے درجنوں کتابیں لکھیں جن میں شاعری اور مرثیہ نگاری بھی شامل ہیں۔

انہوں نے شہزاد قاسم ابن حسن پر دو جلدوں پر مشتمل سوانح تحریر کی جبکہ تصنیف معراج خطابت 5 جلدوں پر مشتمل ہے۔

مولانا ضمیر اختر نقوی کا جسد خاکی انچولی پہنچا دیا گیا۔ نماز جنازہ بعد نماز مغرب انچولی امام بار گاہ شہدا کربلا میں اداکی جائےگی۔

گورنر سندھ کا اظہار افسوس

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے علامہ ضمیر اختر نقوی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ عمران اسماعیل نے مرحوم کی مغفرت اور درجات بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔