لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والے دونوں ملزمان کا سراغ لگالیا گیا
متاثرہ خاتون سے حاصل نمونے ملزمان کے ڈی این اے سے میچ کر گئے ہیں، ڈی این اے نمونے فارنزک لیبارٹری کے ڈیٹا بینک میں پہلے سے موجود تھے، دستیاب شناخت کے مطابق ایک ملزم کا نام محمد عابد اور دوسرے کا وقار ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق 27 سالہ عابد کا تعلق بہاول نگر سے ہے، وہ لاہور آتا جاتا رہتاہے، ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے کئی وارداتوں کا ریکارڈ ہے۔
واضح رہے کہ ملزم تاحال فرار ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔
عابد 2013 میں ڈکیتی کے دوران ماں بیٹی سے زیادتی میں بھی ملوث تھا، دوسرا ملزم وقار مرکزی ملزم عابدکا ساتھی ہے، وقار کا بھی کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔
دونوں افراد کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آئی ہے اور پولیس انہیں تلاش کرنے میں مصروف ہے۔کوٹ پنڈی داس کے علاقے غازی کوٹ میں پولیس کا آپریشن جاری، ملزم عابد کے بھائی آصف علی اور ملزم وقار کے بھائی ڈاکٹر تنویر الحسن کو پولیس نے حراست میں لے لیا گیاہے۔
آئی جی پنجاب انعام غنی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ رات 12 بجے کے قریب کنفرم ہوا کہ عابد علی واقعے میں ملوث ہے، عابد علی کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کرگئے، راتوں رات ہم نے ملزم کی تمام تفصیلات حاصل کیں، عابد کے نام پر چار سمیں تھیں جو مختلف اوقات میں وہ بند کرچکا۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ایک سم جو ملزم استعمال کررہا تھا اس کے نام پر نہیں تھی، قلعہ ستارشاہ میں چھاپے کے دوران ملزم عابد اور اس کی بیوی فرار ہوگئے، دوسرے ملزم وقار کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا لیکن وہ فرار ہوچکا تھا۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ دونوں ملزمان کا ریکارڈ ہمیں مل چکا ہے ہم ان کے تعاقب میں ہیں، امید ہے بہت جلد دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیں گے، ریپ کیسز پر کام کررہے ہیں زیادہ تر کیسز کے ملزمان گرفتار ہیں۔
اس سے قبل پولیس نے پہلے جن 63 افراد کو حراست میں لیا تھا ان میں سے کسی کا ڈی این اے خاتون کے حاصل کردہ نمونوں سے میچ نہیں ہوا۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے اس موقع پر کہا کہ موٹر وے واقعہ سے متعلق تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جلد ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور انہیں گرفتار کرلیں گے۔