عراقی حکومت و عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، صدر حسن روحانی


عراقی حکومت و عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، صدر حسن روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرحسن روحانی نے کہا ہے کہ ہم عراقی حکومت و عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق،  حسن روحانی نے تہران کے دورے پر آئے عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ ملاقات میں عراقی شیعہ، سنی اور کرد عوام کے درمیان وحدت اور آپسی تعاون کو بنیادی ترین اصول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عراقی عوام کے درمیان وحدت و ہم آہنگی میں مدد فراہم کرنے کے لئے عراقی حکومت و عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

 ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنی گفتگو میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران نے سیاسی میدان میں اپنے موقف کو ہمیشہ واضح اور آشکار طور پر بیان کیا ہے، کہا کہ ہم خطے میں امریکی مسلح افواج کی موجودگی، چاہے وہ عراق، افغانستان یا خلیج فارس کے کسی جنوبی ملک میں ہی کیوں نہ ہو، کو پورے خطے کے امن و استحکام کے لئے انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں۔

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ملاقات میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خطے سے امریکی افواج کو بے دخل کرنا صرف ہماری ہی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ خطے کے ہر ملک کا وظیفہ ہے، کہا کہ اس حوالے سے عراقی پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد کو ہم ایک مثبت اقدام جانتے ہیں، جو نہ صرف عراقی قوم بلکہ ہمارے لئے بھی قابل احترام ہے۔

 ایرانی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تہذیبی اور خصوصاً اقتصادی تعاون میں فوری توسیع کے حوالے سے دونوں طرف سے طے شدہ مفاہمتوں پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے ذمہ دار عہدہدار ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا وظیفہ ہے کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان استوار تعلقات میں مزید توسیع اور گہرائی پیدا کریں۔

دوسری طرف عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے اس ملاقات میں عراقی صدر و وزیراعظم کی جانب سے خصوصی پیغام پہنچاتے ہوئے مختلف مقامات پر عراقی عوام و حکومت کو فراہم کی جانے والی ایرانی امداد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم پہلے دن سے عراقی عوام و حکومت کے شانہ بشانہ رہنے والے اسلامی جمہوریہ ایران کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

عراقی وزیر خارجہ نے بھی اپنی گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان موجود تعاون کو مزید توسیع دینے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود طے شدہ مفاہمتوں پر عملدرآمد پر زور دیا۔ انہوں نے بالخصوص سرحدی تعاون، نقل و حمل اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں و لین دین کے لئے دریائے اروند کی تیاری کو اپنے دورے کا مقصد قرار دیا اور کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی تاکید پر مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتوں پر عملدرآمد کے لئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو آئندہ کچھ ہفتوں میں ایران کا دورہ بھی کرے گی۔

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری