نواز شریف کی تقریر سے متعدد اراکین ناراض/ اب جماعت کے ساتھ چلنا مشکل، رکن اسمبلی کا انکشاف


نوازشریف کی تقریر اور بیانیے کی مخالفت کرنے والے رکن صوبائی اسمبلی جلیل شرقپوری نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے متعدد اراکین اب جماعت کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، نوازشریف کی تقریر اور بیانیے کی مخالفت کرنے والے رکن صوبائی اسمبلی جلیل شرقپوری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے متعدد اراکین اب جماعت کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے جلیل شرقپوی کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات حلقے کے مسائل حل کرنے کے لیے کی تو اس میں کون سی غلط بات ہے، یہ کسی دستور میں نہیں لکھا کہ رکن اسمبلی مخالف جماعت کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات نہ کرے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تو لیگی قیادت غصے میں آگئی، یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ حلقے کے مسائل کو حل کروانے کے لیے کی جانے والی ملاقات پر غصہ دکھانے کی کیا ضرورت ہے‘۔

جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ’مسلم لیگ ن کے بعض اراکین پنجاب اسمبلی کہتے ہیں کہ اب جماعت کے ساتھ نہیں چل سکتے،میں نے تقریر کی مخالفت کر کے اپنے ضمیر کی بات کی جو احسن اقبال کو پسند نہیں آئی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مریم نوازکا بھی کچھ غصے والا انداز ہے جو اگر برقرار رہا تو اچھا نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ سےٹکرانےکی سوچ ملک کے مستقبل کیلئےاچھی نہیں ہے، ن لیگ میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں وہ پارٹی کیساتھ نہیں چل سکتے‘۔

منحرف رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز کا انداز  بھی قومی مفاد کے خلاف ہے، مسلم لیگ ن کی قیادت کو اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی ترک کرنا ہوگی اور اس بارے میں سوچنا بھی ہوگا کیونکہ یہ نہیں چل سکتی‘۔