فلسطین؛ اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ


فلسطینی تنظیم فتح نے اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق،فلسطینی تنظیم فتح کی مرکزی کمیٹی کے سیکریٹری نے اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔

المیادین ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ فلسطینی تنظیم فتح کی مرکزی کمیٹی کے سیکریٹری جبریل الرجوب نے منگل کی شب اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے سے متعلق فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی تمام تنظیموں من جملہ حماس کے ساتھ ایک سیاسی محاذ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے اور بہت جلد اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا جائیگا۔

حماس کے سیکریٹری جنرل زیاد النخاله نے بھی کہا ہے کہ فتح کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ فوری طور پر تمام معاہدوں کو ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی گروہ اسرائیل کے ساتھ روابط کی برقراری کے مخالف ہیں اور حماس، اسرائیل کے ساتھ روابط کی برقراری کے خلاف وسیع پیمانے پر عوامی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی ذرائع کے مطابق عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے نائب سربراہ ابو احمد فواد اور تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے سیکریٹری جبریل الرجوب اور ان کے ہمراہ وفد نے سینچری ڈیل، غرب اردن کے مزید حصوں پر قبضے اور بعض عرب حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی جیسے موضوعات کا جائزہ لیا ۔اس ملاقات میں فریقین نے پی ایل او کی تعمیرنو، ہمہ گیر عوامی استقامت کو فعال بنانے اور قومی قیادت کی تشکیل کے بارے میں گفتگو کی ۔

تحریک فتح اور حماس کے نمائندوں نے بھی ابھی حال ہی میں ترکی اور دوحہ میں ایک دوسرے سے ملاقات کر کے فلسطینی قوم  کے حقوق اور مفادات کے دفاع کے لئے مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی صیہونی سازشی منصوبے ’’سینچری ڈیل‘‘ کے سامنے آنے کے بعد سے فلسطینی گروہ اس کا مقابلہ کرنے اور اس کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے پر بار بار زور دے رہے ہیں ۔ سینچری ڈیل میں غرب اردن کے مزید علاقوں کا مقبوضہ فلسطین میں انضمام اور اسرائیل کے ساتھ عرب حکومتوں کے  تعلقات کی بحالی شامل ہے۔