امریکہ اتنا طاقتور نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے، ایران


امریکہ اتنا طاقتور نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے، ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہوچکے ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان خطیب زادہ نے کہا کہ امریکا، ہر طرح کی ہیکڑی، عیاری اور غیرقانونی اقدامات کے باوجود کچھ نہیں کر سکا اور ایران نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ امریکا اتنی بڑی طاقت نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اٹھارہ اکتوبر سے ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیاں ختم ہونے اور ہتھیاروں کی برآمدات اور درآمدات کا اختیار بحال ہو جانے کی خبر دی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پیر کو ہفتے وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اٹھارہ اکتوبر امریکہ کی شکست کا دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہ اکتوبر سے ایران کو اسلحے کی برآمدات و درآمدات کے لئے لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور ایران کی تیرہ شخصیات پر عائد سفری پابندیاں بھی اٹھا لی جائیں گی۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کی حکومت ایک ذمہ دار حکومت اور عالمی امن و سیکورٹی کی ضامن ہے اور ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد جو ہوگا وہ اس اصول سے الگ نہیں ہوگا۔

 

خطیب زادہ نے امریکہ کی خودسرانہ پابندیوں کو اس کی تشہیراتی جنگ کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کے امریکی اقدام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خواب میں نہیں سوچا ہوگا کہ اس کی ایران کے تیل کی فروخت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی اور ایران، دیگر بہت سے ممالک کے ساتھ مل کر اپنا کام آگے بڑھائے گا۔

خطیب زادہ نے ایران اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان  لندن پر تہران کی واجب الادا رقم کے بارے میں ہونے والی  ٹیلی فونی گفتگو کے بارے میں کہا کہ برطانیہ ، ایران کا مقروض ہے اور ادائگی میں تاخیر کے باعث اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

  وزارت خارجہ کے ترجمان نے نازنین زاغری کے تعلق سے ایرانی عدلیہ کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ ایران کی عدلیہ آزاد  ہے اور نازنین زاغری عدالت کے حکم کی بنیاد پر سزا کاٹ رہی ہے ۔

 یاد رہے کہ نازنین زاغری جوتھامسن رائٹرز گروپ کی مینیجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے ایران میں کام کررہی تھی  چاراپریل دوہزارسولہ کو جاسوسی کے جرم  میں گرفتار کی گئی اور عدالت نے اس کو  سزائے قید کاحکم دیا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری