پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے زائرین کو بازیاب کرانے میں ناکام


صوبہ بلوچستان کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تا حال پنجگور سے مغوی زائرین کی بازیابی میں فی الحال کوئی پیشرفت نہیں کر سکے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے نوٹس لیئے جانے کے باوجود بلوچستان کے ضلع پنجگور سے اغوا کیے گئے زائرین کی بازیابی تاحال عمل میں نہیں آ سکی۔

مغوی کی بازیابی کیلئے انتظامی اور آپریشنز امور کے ساتھ ساتھ قبائلی اثر و رسوخ بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ زائرین کو گزشتہ اتوار ایران سے واپسی پر کراچی جاتے ہوئے اغواء کر لیا گیا تھا۔

اغواء کاروں نے مغوی زائرین کے ہمراہ 2 خواتین کو چھوڑ دیا تھا، مغوی زائرین کا تعلق کراچی سے ہے۔

کراچی کے علاقے ماڈل ٹاؤن ملیر کی رہائشی 2 خواتین اور 6 مردوں پر مشتمل زائرین ایران سے واپسی آتے ہوئے چیدگی چیک پوسٹ پر چیکنگ کے بعد سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے اور کراچی جانے کیلئے ایک گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔

زائرین کی گاڑی جب پنجگور کے علاقے عیسیٰ پہنچی تو ڈبل کیبن میں سوار مسلح افراد نے ان کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ چیک کرنے کے بعد 6 مرد زائرین کو اغواء کر لیا جن میں حبیب، حسین، سکندر، احمد رضا اور مہدی رضا شامیل ہیں۔

اغواء کرنے والوں نے خواتین شہناز بیگم، مسکان بی بی اور ان کے بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔

پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا تھا، پولیس نے بتایا کہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مغویوں کی بازیابی کیلئے چھاپے مار رہی ہیں۔