امریکی صدر نے اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک لفظ تک نہ کہا


امریکی صدر نے اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک لفظ تک نہ کہا

جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں امریکی صدر نے 7 دہائی پرانے مسئلہ کشمیر اور اس میں جاری بھارتی مظالم کا ذکر تک نہ کیا۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں امریکی صدر نے چین، شام، فلسطین، شمالی کوریا کا تذکرہ کیا تاہم انہوں نے دنیا کے بڑے بڑے رہنماؤں کے سامنے کشمیر کا دیرینہ مسئلہ قابل ذکر نہ سمجھا۔
  
نوائے وقت نے ان کی  تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ صدر اوبامہ کا زیادہ تر زور سماجی مسائل، ذرائع ابلاغ کی آزادی، نوجوان نسل میں تعلیم عام کرنا، جوہری عدم پھیلاؤ، شمالی کوریا کے جوہری میزائل تجربات، دہشت گردی، انتہا پسندی اور داعش کے خاتمے پر رہا۔

تاہم ان کا خطاب اکثر امریکہ کے مقامی مسائل کے گرد ہی گھومتا رہا۔

صدر بارک اوباما نے کہا کہ اسرائیل مستقل طور پر فلسطینی سرزمین پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا تاہم  فلسطینیوں کو بھی اسرائیل کا وجود تسلیم کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا سمجھتی ہے تمام مسائل کا حل امریکہ کے پاس ہے لیکن امریکہ اکیلے تمام مسائل ختم نہیں کر سکتا۔ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ہمیں عالمی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انسانیت کو زندہ رکھنے کے لئے ہمیں مل کر بہتر اقدامات کرنا ہونگے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ آج دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ اور خوشحال ہے اور اس کو مزید محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس میں صدر اوبامہ نے اپنی تقریر میں ایک مرتبہ بھی کشمیر یا اس میں جاری بھارتی بربریت سے متعلق ایک لفظ تک نہ کہا۔

یاد رہے کہ امریکہ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے آغاز سے قبل ہی پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر کے معاملے میں مکمل طور پر غیرجانب دار رہنے کا اعلان کر دیا تھا۔

اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری