بھارت کا پاکستان کے لئے پانی بند کرنے کا امکان / مودی نے اہم اجلاس بلا لیا

خبر کا کوڈ: 1196770 خدمت: پاکستان
ایرانی دریا

بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مودی حکومت اڑی حملے کے ردعمل کے طور پر پاکستانی پانی پر بندش لگا سکتی ہے

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارتی حکومت نے خارجہ امور، آبی وسائل کے وزرا اور دیگر متعلقہ حکام کا اجلاس آج نئی دہلی میں طلب کیا ہے۔

جیو نیوز نے بھارتی ذرائع ابلاغ سے نقل کیا ہے کہ نئی دلی سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی کرکے پاکستان کا پانی بند کرسکتا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اڑی واقعے کے ردعمل کے طور پر پاکستان کے پانی کی بندش بھی خارج از امکان نہیں۔

واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے پر 1960میں صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم جواہرلعل نہرو نے دستخط کیے تھے۔

مذکورہ معاہدے کے تحت پاکستان دریائے جہلم ، چناب ، سندھ اور بھارت دریائےستلج، بیاس اور  راوی کا پانی استعمال کرسکتا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت پر غور کشمیر میں بربریت کے حوالے سے پاکستان کی عالمی سطح پر مہم  کرنے کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم نوازشریف کی تقریر کے بعد بھارت کو سفارتی سطح پر سخت ہزیمت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب  یہ موضوع بھی زیر بحث ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر یک طرفہ فیصلہ کیا تو بھارت کو عالمی ردعمل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اسی لیے آج کے اجلاس کے لیے نریندر مودی نے خارجہ امور کے وزیرمملکت کو بھی طلب کررکھا ہے۔

جبکہ بعض ماہرین صورتحال کو اس زاویے سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ اگر بھارت نے پاکستانی دریاوں کا پانی روکا تو پاکستان کے اتحادی چین کے دریائے براہما پترا کا جو پانی بھارت آتا ہے، چین وہ بھی روک سکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری