4 ہزاربے روزگار دہشت گردوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے سعودی پلان کا انکشاف


عربی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس ایجنسی نےالموک روم (اردن آپریشن روم) سے وابستہ جنوبی شام میں موجود مسلح دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک نیا مشن ترتیب دیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سعودی عرب کی انٹیلی جنس نے نےالموک روم (اردن آپریشن روم) سے وابستہ جنوبی شام میں موجود مسلح دہشت گرد گروہوں کے لیے جنوبی سعودی عرب میں ایک نیا مشن ترتیب دیا ہے کیونکہ اس گروہ کی درعا اور قنیطره میں شامی فوج کے مقابلے میں شکست اور ناکامی ثابت ہو چکی ہے اور خطے میں شام کی فوج نے جنگی معادلے کو مکمل طور پر اپنے حق میں تبدیل کر دیا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے جب سعودی عرب انٹیلی جنس کو یمنی فورسز کی سعودی سرحدوں پر پیش قدمی کرتے  جیزان، نجران اور عسیر کی طرف قریب ہوتے ہوئے ڈراؤنے خواب کا سامنا ہے جبکہ سعودی شاہی گارڈز بھی ان کی پیش قدمی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

 سعودی عرب انٹیلی جنس نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی شام میں بے روزگار دہشت گرد گروہوں کو جنوبی شام سے دور ایک مشن کے لئے استعمال کرے۔

جنوبی شام کے محاذ میں سیکیورٹی ذرائع سے حاصل معلومات کے حوالے سے لبنانی اخبار الاخبار نے لکھا ہے کہ سعودی عرب انٹیلی جنس جنوبی شام سے تین چار ہزار دہشت گردوں کو سعودی عرب اور یمن کی مشترکہ سرحدوں پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ یمنی فوج اور عوامی رضا کار فورس کا مقابلہ کرسکیں۔

سعودی عرب اور اردن کی اینٹیلی جنس ذرائع نے ان دہشت گردوں کی دوبارہ فوجی تربیت رواں سال اگست کے آخر تک اردن اور سعودی عرب کے فوجی اڈوں میں مکمل کی ہے۔

سعودی انٹیلی جنس نےاس سے پہلے بھی کرائے کے غیر ملکی دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو یمن میں تعینات کردیا تھا اور اس کے ساتھ الدیر نامی خانہ بدوشوں کو سعودی شہریت دینے کے وعدے کے ذریعے راغب کرنے کی کوششیں کی تھیں۔

تاہم مذکورہ لبنانی اخبار نے جنوبی شام میں مقیم دہشت گردوں کو سعودی عرب کے جنوب میں نئے مشن کے لئے اپنی طرف مائل کرنے میں سعودی انٹیلی جنس کی کامیابی کو بعید قرار دیا ہے۔

کیوںکہ الموک روم کے جانب سے کچھ ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ شامی فوج نے درعا میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، ان ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس نے سعودی سرحدوں کے دفاع کے لئے دہشت گردوں کو مالی تعاون کی پیشکشں کی ہے۔

تاہم دہشت گردوں کی اتنی بڑی تعداد کو پورا کرنا بھی آل سعود کے لئے مشکل ہے۔