سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر میں پناہ گاہ قائم کردی گئی


سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر میں پناہ گاہ قائم کردی گئی

پنجاب حکومت نے لاہور کے علاقے گلبرگ میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر میں پناہ گاہ قائم کردی

تسنیم نیوز کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ بلاک گلبرگ میں ہجویری ہاؤس کی نیلامی پر عدالت نے حکم امتناع جاری کیا تھا جس کے بعد گھرمیں پناہ گاہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ نے ہجویری ہاؤس کے 12 کمروں میں بیڈ لگوا دیے اور رہائش گاہ کے باہر پناہ گاہ کا بورڈ بھی لگا دیا گیا۔

اس حوالے سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا ہے کہ ’اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کی پناہ گاہ میں تبدیلی سال کی سب اچھی خبر ہے‘۔

علی زیدی نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار کی پرتعیش رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا جو سال کی سب سے اچھی خبر ہے۔

27 جولائی 2019 کو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا لاہور میں 4 کنال 17 مرلے کا گھر سیل کر دیا گیا تھا۔

اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ اور ایل ڈی اے افسران نے پولیس کی سربراہی میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر کو سیل کیا۔

نیب نے احتساب عدالت میں درخواست جمع کراتے ہوئے استدعا کی تھی کہ اسحاق ڈار مفرور ہیں ان کی پاکستان میں موجود تمام جائیداد فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔

اسحاق ڈار کیس کا پسِ منظر

واضح رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر رکھا ہے جس میں انہیں مفرور قرار دیا جاچکا ہے۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا کیس احتساب عدالت میں چل رہا ہے اور وہ کئی پیشیوں پر احتساب عدالت میں پیش بھی ہوئے تاہم وہ نومبر 2017ء میں علاج کی غرض سے لندن گئے تھے اور اس کے بعد سے وطن واپس نہیں آئے۔

نیب نے اسحاق ڈار کو انٹرپول کی مدد سے وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ سپریم کورٹ نے بھی انہیں 8 مئی 2018 کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم ان کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ بیماری کے باعث اسحاق ڈار عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

اس کے علاوہ اسحاق ڈار کے خلاف پارک اکھاڑ کر رہائش گاہ کے لیے سڑک بنانے کا کیس بھی چل رہا ہے اور اس کیس میں عدالت عظمیٰ نے ایل ڈی اے حکام کو پارک کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

سابق وزیر خزانہ کو وطن واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کی جانب سے ریڈ وارنٹ جاری کرتےہوئے انٹرپول کو درخواست دی گئی تھی تاہم 7 نومبر کو انٹرپول نے حکومت پاکستان کی درخواست پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے ریڈ نوٹس جاری کرنے سے انکار کردیا اور انہیں کلین چٹ دیتے ہوئے ڈیٹا حذف کرنےکی ہدایت کردی۔

اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری