نواز شریف، سلمان شہباز کے اشتہار جاری کرنے کا حکم


نواز شریف، سلمان شہباز کے اشتہار جاری کرنے کا حکم

قومی احتساب بیورو (نیب) کے 2 علیحدہ ریفرنسز میں احتساب عدالتوں کی جانب سے اشتہار جاری کرنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھتیجے سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز ہوگیا۔

کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 87 کے تحت جاری کردہ اشتہار کے نوٹس کو عدالت کے احاطے کے علاوہ لاہور میں ملزم کی رہائش گاہ پر بھی چسپاں کردیا گیا۔

ریفرنس کی گزشتہ سماعت میں ملزمان کی عدم حاضری پر عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی منظوری دی تھی۔

پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن بھی نامزد ہیں، پریزائڈنگ جج اسد علی نے نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کو نواز شریف کی مسلسل غیر حاضری پر کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 87 کے تحت کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا۔

نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کے حوالے سےرپورٹس کی روشنی میں جج نے کہا کہ عدالت کو اس بات کا یقین ہے کہ ملزمان وارنٹ گرفتاری پر عمل سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر چھپ رہا ہے۔

عدالتی احکامات کے مطابق دونوں ریفرنس میں نواز شریف اور سلمان شہباز کے خلاف اشتہار ملزمان کی رہائشی پتے پر نمایاں جگہ پڑھ کر سنائے جائیں اور چسپاں کیے جائیں جہاں یہ پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔

اس کے علاوہ اشتہار کی ایک نقل عدالت کے احاطے میں بھی نمایاں مقام پر آویزاں کی جائے۔

سلمان شہباز کے خلاف اشتہار کا حکم پریزائیڈنگ جج جواد الحسن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے غیر قانونی اثاثوں اور منی لانڈرنگ سے متعلق ریفرنس میں دیا۔

نیب کو نواز شریف اور سمان شہباز کے اشتہار جاری کرنے کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ 15 اور 13 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرے گا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کے حاضر نہ ہونے پر ان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت العزیزیہ ریفرنس سے متعلق کیس میں بھی انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی جاری ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہدایت کی تھی کہ وہ اشتہاری مجرم قرار دیے جانے سے بچنے کے لیے 24 نومبر تک عدالت میں پیش ہوجائیں۔

 

اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری