سعودی شاہی محل کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا ڈراپ سین / تسنیم کے دعوے سچ ثابت ہوگئے + لنکس

خبر کا کوڈ: 1442469 خدمت: دنیا
محمد بن سلمان

آل سعود کے شاہی محل میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا ڈراپ سین بالآخر ولی عہد شہزادے محمد بن نائف کی برطرفی اور محمد بن سلمان کی ولیعہد کے عہدے پر تقرری کی صورت میں سامنے آگیا۔ واضح رہے کہ تسنیم نیوز اس سلسلے میں کئی مرتبہ پیشگوئی کرچکا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کر کے اپنے بیٹے کو ولی عہد مقرر کر دیا۔

اس کے ساتھ ہی شاہی محل میں شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد اور وزرا کی معطلی، تبدیلی، تنزلی اور ترقی کی کہانی کا ڈراپ سین سامنے آ ہی گیا۔

ذرائع کے مطابق شاہ سلمان کی جانب سے ایک شاہی فرمان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے شہزادہ محمد بن نایف کو ولی عہد کے منصب سے ہٹا کر ان کی جگہ اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو ولی عہد مقرر کیا ہے۔

شہزادہ سلمان کے پاس نئی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کا تو عہدہ برقرار رہے گا ہی علاوہ ازیں وہ نائب وزیر اعظم بھی ہوں گے۔

سعودی عرب کی جانشینی کمیٹی کے 34 میں سے 31 ارکان نے شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر کرنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔

خیال رہے کہ شاہی فرمان کے مطابق آج شب تراویح کے بعد نئے ولی عہد سے اظہار وفاداری کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

ملاحظہ ہو تسنیم نیوز ایجنسی کی پیشگوئیاں؛

سعودی شاہی محل میں بغاوت سے آل سعود میں پھوٹ!

وہابیت کی آل عبدالعزیز سے آل سلمان میں منتقلی

بن نائف کے خلاف خاموش سازش، بن سلمان حکومت پر قبضہ جمانے میں مصروف

سعودی عرب کے شاہی محل میں اقتدار کی جنگ/ تخت نشین بن نائف ہوگا یا بن سلمان؟

تخت کی لالچ؛ سعودی شہزادے کی طرف سے امریکہ کو 56 میلین ڈالر کی رشوت

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری